Saturday, 10 July 2021

Golden words

*هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (القرآن)*
*ترجمہ: (یہ کتاب،یعنی قرآن کریم) ہدایت ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے..*

تقویٰ" کا لفظی مطلب "بچنا" ہے۔ قرآن کا مقصد چوں کہ جہنم کے نقصان اور جنت کی محرومی سے بچانا ہے اس لیے اس کی یہ دعوت صرف ان لوگوں کی سمجھ میں آسکتی ہے جو "تقوی"  یعنی نقصان اور محرومی سے بچنے کی نفسیات میں جی رہے ہوں۔ ایک عام انسان اپنی زندگی اسی تقوی کے اصول پر گزارتا ہے۔ یعنی وہ ہر نقصان اور تکلیف سے بچنا چاہتا ہے۔ اس کی ساری تگ ودو بھوک، پیاس، بے گھری، بے روزگاری وغیرہ سے بچنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس طرح ہر انسان اصل میں متقی ہوتا ہے۔ قرآن بس اتنا کہتا ہے کہ اپنے تقوٰی کا رخ دنیا کے ساتھ آخرت کی طرف بھی کر لو۔ یعنی آخرت کے نقصان سے بچنے کی بھی فکر کرلو۔یہی لوگ قرآن کی اصطلاح میں "متقی" ہیں۔ جو لوگ ان معنوں میں متقی نہیں قرآن کا کوئی مطالبہ ان پر مؤثر نہیں ہوتا۔🪴*

جس معاشرے میں عفت و عصمت بے وقعت ہو جائے اور عہد اور امانت کے بارے میں لوگ بے پروا ہو جائیں وہاں آخر کار تمام خاندانی اور سماجی اقدار ختم ہو جاتی ہیں*۔

*انسان اور جانوروں میں اصل فرق اقدار کا ہے۔ جانور صرف مفاد اور خواہش کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ جانوروں میں رشتے نہیں ہوتے۔ وہاں نر کے لیے مادہ صرف ایک مادہ ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔ وہ احساسِ امانت اور عہد کی پاسداری کے تصور سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ صرف جبلت کو جانتے ہیں۔ اگر انسان بھی حیا، عہد، امانت، اقدار کو بھول کر جبلت، خواہش اور مفاد کو زندگی بنالیں، عہد کو توڑیں، امانت میں خیانت کریں اور زنا و بدکاری میں عام ہوجائیں تو ان میں اور جانوروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ سوائے اس کے کہ جانوروں کا جنگل اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے، مگر انسانی مُعاشرے اس کے بعد تباہ ہو جاتے ہیں۔🪴*


*وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً (القرآن)*
*ترجمہ: اور لوگوں سے بھلی بات کہو!!!*

انسان اکثر اپنی زبان سے لوگوں کو دکھی کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک بندہ مومن سے خدا کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے کسی کو دکھ نہ پہنچے۔ غیبت، بہتان تراشی، تضحیک و تذلیل، طعنہ زنی، چغلخوری، سخت کلامی جیسے رذائل تو دور کی بات ہے، خدا کے بندوں کے منہ سے ہمیشہ لوگوں کے لیے اچھی باتیں نکلتی ہیں۔ یہ بات جس میں نہیں وہ بندہ مومن نہیں۔

اسی طرح یہ بات بھی اس حکم سے نکلتی ہے کہ بندہ مومن نیکی اور خیر کی باتیں ہی دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اس کا کلام اچھائی ہی کی تلقین کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ برائی کی دعوت دینے والا۔

اچھائی پھیلانی پڑتی ہے، برائی تو خود ہی پھیل جاتی ہے


اولاد کو با ادب بنانے کا بہترین طریقہ، اُن کے ساتھ عزت سے پیش آنا ہے


مزاج کے خلاف بات کہنا، رشتوں کی استواری کو کھو دیتا ہے

وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةً أَوْ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمْ ذَكَرُواْ ٱللَّهَ فَٱسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ۔ (القرآن)*
*ترجمہ: (جنت تیار کی گئی ہے ان متقین کے لیے) جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام اُن سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللّٰہ انھیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔*

انسان کو امتحان کے لیے اس دنیا میں پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں قدم قدم پر اس کے سامنے وہ گندگیاں آتی ہیں جو اس کے حیوانی اور نفسانی جذبات کے لیے تو بڑی پرکشش ہوتی ہیں، مگر اس کے اخلاقی وجود کو ناپاک کر دیتی ہیں۔ ایک مومن اس کیچڑ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، مگر کبھی کبھار اس کا پاؤں اس میں پڑ سکتا ہے۔ ایک بندہ مومن اس حادثے کے بعد غافل نہیں رہتا؛ بلکہ اس کیچڑ کو گندگی سمجھ کر فوراً توبہ کے آنسوؤں سے دھونے کی کوشش کرتا ہے۔ جو شخص فواحش اور گناہوں کی گندگیوں کو گندگی نہ سمجھے وہ کبھی مومن نہیں ہوسکتا

*وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَىٰ مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (القرآن)*
*ترجمہ: اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے

جنت کے حصول کے لیے گناہ پر توبہ ہی کافی نہیں؛ بلکہ اس راستے کو بھی بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گناہ کی سمت لے جاتا ہے۔ جو یہ نہ کرے وہ بار بار گناہ کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی توبہ کی توفیق اگر نصیب ہو گئی تھی تو وہ بھی چھن جاتی ہے اور پھر انسان گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

کائنات میں موجود نعمتیں انسان کو ہر لمحہ رب کی یاد دلاتی ہیں۔ دل کی دھڑکن، خون کی گردش، سانس کی ڈوری لمحہ لمحہ اسے یاد دلاتے ہیں کہ وہ پل رہا ہے اور کوئی اسے پال رہا ہے۔ اس کی غذا، پانی، ہوا، اہل و عیال کی نعمتیں، انفس و آفاق کی ہر ہر نشانی میں موجود ربوبیت کے آثار کبھی اسے خدا سے بے تعلق نہیں رہنے دیتے۔ ایسا بندہ ہمیشہ رب کی یاد میں جیتا ہے۔ اس کا سب سے اعلیٰ نمونہ تو خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ آپ کی دعائیں اس کیفیت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں۔ یہی ہر مسلمان کے لیے بہترین ماڈل بھی ہے۔

غزل کے وہ سارے الفاظ جو عورت کی تعریف میں کہے جاتے ہیں خواہ وہ دنیا کی تمام زبانوں میں ہی کیوں نہ ہوں، اس ایک وصف کے برابر بھی نہیں ہو سکتے جس کو قرآن نے عورت کی شان میں کہا ہے:*
*تَمشِي عَلـَی استِحیَاء*
*سورة القصص (٢٥)*
 *وہ بڑی حیا کے ساتھ آئی

زندگی اِس طرح بسر کرو کہ دیکھنے والے تمھارے درد پر افسوس کرنے کی بجائے، تمھارے صبر پر رشک کریں۔

Thursday, 8 July 2021

Juma ke din ki sunnaten, جمعہ کے دن کی سنتیں

نمبر 1 : غسل کرنا
 نمبر 2 : مسواک کرنا
نمبر 3 : خوشبو لگانا،
نمبر 4 : چار عمدہ لباس پہننا،
 نمبر 5 : تیل لگانا
 (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع)
نمبر 6 : فجر کی نماز میں امام کا سورہ سجدہ اور سورہ دھر کی تلاوت کرنا
نمبر 7 : نماز جمعہ کے لئے پیدل جانا
نمبر 8 : جمعہ کے لیے مسجد میں جلدی جانا
نمبر 9 : امام کے قریب بیٹھنا
نمبر 10 : جمعہ کے خطبے کو خاموشی کے ساتھ سننا
بدائع الصنائع
نمبر 11 : نماز جمعہ میں امام صاحب کا سورہ الاعلی اور سورہ غاشیہ یا یا صور جمعہ اور سورہ منافقین کی تلاوت کرنا
نمبر 12 : جمعہ کے دن درود پاک کی کثرت سے پڑھنا (مشکوٰۃ شریف)
نمبر 13 : جمعہ کے دن دعا مانگنا نا نا سکر دونوں خطبوں اور عصر سے مغرب کے درمیان، واضح رہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان دعا صرف صرف دلدل میں کی جائے زبان سے نہیں اور نہ ہی اس کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں
(مشکوٰۃ)
نمبر 14 : جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنا علامہ افضل ہے ہے کیونکہ احادیث میں اس سورت کی بڑی فضیلت آئی ہے ہے چنانچہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آیا کہ جو شخص جمعہ کے روز سورہ کہف پڑھے وہ اگلے آٹھ دن تک ہر فتنے سے محفوظ رہے گا ہفتہ کہ اگر دجال نکل آئے آئے تو اس کے فتنے سے بھی محفوظ رہے گا
(ابن کثیر عن الحافظ المقدسی) 

Wednesday, 7 July 2021

Qurbani ke masail قربانی کے 40 اہم مسائل

قربانی کے مسائل
قربانی کے 40 اہم مسائل
مسئلہ نمبر 1  جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہوگی
یعنی قربانی کے تین دن (10, 11 ,12) ذوالحجہ کے دوران  اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیاء جمع ہو جائیں، جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے ( مثال کے طور پر رھائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو چاہے وہ تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو، اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہو، تو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :  دو مسافر پر قربانی واجب نہیں
مسئلہ نمبر 3: قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے، بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہو جانے کے بعد قربانی کرنا درست نہیں ہے، قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے، اگرچہ رات کو بھی ذبح کر سکتے ہیں ؛ لیکن بہتر ہے کہ وہ قربانی عید کو کرے اس کے بعد دوسرے دن اور اس کے بعد تیسرے دن۔
مسئلہ نمبر 4 : شہر اور قصبوں میں رہنے والوں کے لیے عید الاضحی کی نماز پڑھ لینے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں ہے، دیہات اور گاؤں والے صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کر سکتے ہیں، اگر شہری اپنا جانور قربانی کے لئے دیہات میں بھیج دے، تو وہاں اس کی قربانی بھی نماز عید سے پہلے درست ہے اور ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت منگوا سکتا ہے ۔
مسئلہ نمبر 5 : اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یعنی وہاں رکنے کی نیت کرے یا بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے یا کسی غریب آدمی کے پاس بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے اتنا مال آ جائے کہ وہ نصاب کو پہنچ جائے یعنی کی اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو،  ہو تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔
نیز اگر مسافر مالدار ہو، دوران سفر قربانی کے لیے رقم بھی ہو اور وہ پندرہ دن سے کم عرصے کے لیے رہائش پذیر ہونے کے باوجود آسانی کے ساتھ قربانی کر سکتا ہو، تو 
قربانی کر لینا بہتر ہے ۔
مسئلہ نمبر 6: قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے اگر خود نہ کرسکتا ہو تو کسی اور سے بھی ذبح کرا سکتا ہے۔
بعض لوگ قصائی سے ذبح کرتے وقت ابتداءً خود بھی چھری پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ قصائی اور قربانی والے دونوں مستقل طور پر تکبیر پڑھیں، اگر دونوں میں سے ایک نے نہ پڑی تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔
مسئلہ نمبر 7 : قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں دل میں بھی نیت کر سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 8 : قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلے کی طرف لٹائیں اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے
"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".

اور ذبح کرنے سے پہلے درج ذیل دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لے:

"اللّٰهُم َّمِنْكَ وَ لَكَ" پھر ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘  کہہ  کر ذبح کرے ، اور ذبح کرنے کے بعد اگر درج ذیل دعا یاد ہو تو پڑھ لے:

"اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّيْ كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيْلِكَ إبْرَاهِيْمَ عليهما السلام". 

اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہو تو "مِنِّيْ" کی جگہ " مِنْ "  کے بعد اس شخص کا نام لے لے

مسئلہ نمبر 9 : قربانی صرف اپنی طرف سے کرنا واجب ہے، اولاد کی طرف سے نہیں، اولاد چاہئے بالغ ہو یا نابالغ، مالدار ہو یا غیر مالدار، جس پر پر قربانی واجب ہوئی ہے، وہ اپنے مال میں سے خود قربانی کرے گا، کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے قربانی کرے تو یہ درست نہیں ہے ۔
مسئلہ نمبر 10: درج ذیل جانوروں کی قربانی ہو سکتی ہے "اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا"۔
بکرا بکری بھیڑ اور دنبہ کے علاوہ باقی تمام جانوروں میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں؛ لیکن ایک شرط ہے وہ یہ کہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو، اور سب قربانی کی نیت سے شریک ہو یا عقیقہ کی نیت سے  صرف گوشت کی نیت سے شریک نہ ہوں۔
گائے، بھینس اور اونٹ وغیرہ میں سات سے کم افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں، اس طور پر کہ کہ چار آدمی ہوں، تو تین آدمی کے دو حصے اور ایک آدمی کا ایک حصہ ہو جائے، نیز اگر پورے جانور کو چار حصوں میں تقسیم کر لیں، یہ بھی درست ہے یا یہ کہ دو آدمی موجود ہوں تو نصف نصف تقسیم کر سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر کئی افراد مل کر ایک حصہ ایصال ثواب کے طور پر کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے، لیکن ضروری ہے کہ سارے شرکاء اپنی اپنی رقم جمع کرکے ایک شریک کو دیں، اور وہ اپنی طرف سے قربانی دے اس طرح قربانی کا حصہ ایک کی طرف سے ہو جائے گا اور ثواب سب کو ملے گا۔
مسئلہ نمبر 11: اگر قربانی کا جانور اس نیت سے سے خریدا کے بعد میں کوئی مل گیا تو شریک کر لوں گا، اور بعد میں کسی اور کو قربانی یا عقیقہ کی نیت سے شریک کیا تو قربانی درست ہے اور اگر خریدتے وقت کسی اور شریک کو شریک کرنے کی نیت نہ تھی بلکہ پورا جانور اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اب اگر شریک کرنے والا غریب ہے ، تو کسی اور کو شریک نہیں کر سکتا اور اگر مالدار ہے تو شرک کر سکتا ہے لیکن بہتر نہیں ہے۔
ایک جانور قربانی کرنے کے لیے خریدا اگر اس کے بدلے دوسرا جانور دینا چاہے تو جائز ہے مگر یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ دوسرا جانور کم از کم اسی کی قیمت کا ہو اگر اس سے کم قیمت کا ہو تو زائد رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ صدقہ کرنا ضروری ہے، ہاں! اگر زبانی طور پر جانور کو متعین نہ کیا ہو؛ بلکہ یہ ارادہ کیا کہ اگر اچھی قیمت میں فروخت ہورہا ہو تو فروخت کردیں گے اس صورت میں اصل قیمت سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے میں کوئی بھی گناہ نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 12: جانور گم ہوا، اس کے بعد دوسرا خریدا اور پہلا جانور واپس مل گیا، اگر قربانی کرنے والا امیر ہے تو ان دونوں جانوروں میں سے جس کو چاہے ذبح کرے جبکہ غریب پر ان دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی۔
وضاحت: اگر کسی آدمی نے قربانی کے لئے جانور خریدا اور خریدنے کے بعد وہ جانور قربانی کرنے سے پہلے گم ہو جائے تو صاحب حیثیت آدمی پر قربانی کے لئے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے، کیونکہ اس پر قربانی شرعاً واجب تھی اور واجب ادا نہیں ہوا، جب کہ فقیر آدمی پر دوسرا جانور خریدنا اور قربانی کرنا لازم نہیں تھا، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور بھی خرید لیا اب اگر مالدار اور غریب کا پہلا گمشدہ جانور مل جائے، امیر پر صرف شرعی واجب قربانی کا ادا کرنا لازم ہے، جس جانور کو ذبح کرے کافی ہے جبکہ غریب پر خود سے واجب کئے جانوروں کی قربانی کرنا بھی لازم ہے
اس کی تفصیل یوں ہے کہ امیر آدمی پر نصاب کی وجہ سے قربانی واجب تھی اس نے وہ ادا کردی، اس کے حق میں جانور متعین نہیں ہوا تھا اسے اختیار ہے کہ جس جانور کو چاہے ذبح کر دے جبکہ غریب آدمی پر قربانی لازم نہیں تھی غریب نے خود سے جانور خرید کر اپنے اوپر قربانی کو لازم کیا اور جو جانور اس نے خریدا وہ بھی متعین ہوگیا کے حق میں قربانی کے نام سے متعین ہوچکا اگر وہ گم ہو جائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی لازم نہ تھی اس کے باوجود تقریب میں دوسرا جانور خرید کر قربانی لازم کر لیں اس پر فقیر آدمی پر دوسری قربانی بھی لازم ہوئی لہذا غریب آدمی دونوں جانوروں مہربانی کرے گا اور مالدار اس پر صرف قربانی لازم ہے جانور متعین نہیں دونوں جانوروں میں سے کسی ایک کے قربانی کردے تو کافی ہوگا
مسئلہ نمبر 13 : قربانی کے جانور میں اگر کئی شرکاء ہیں تو گوشت وزن کرکے تقسیم کریں
مسئلہ نمبر 14: بھیڑ، بکری جب ایک سال کی ہو جائے، گائے بھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا تو اس کی قربانی جائز ہے، اگر اس سے کم ہے تو جائز نہیں، ہاں! دنبہ اور بھیڑ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔
تول کر کر خرید و فروخت کرنا بھی جائز ہے، ایسی قربانی بغیر کسی شک کے صحیح اور درست ہے
مسئلہ نمبر 15 : قربانی کا جانور اگر اندھا ہو یا ایک آنکھ کی ایک تہائی یا اس سے زائد روشنی چلی گئی ہو، یا ایک کان ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گیا ہو، یا دُم ایک تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ، گائے اور بھینس کے دو تھن یا بکری کا ایک تھن خشک ہو گیا ہو یا پیدائشی طور پر نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں۔
مسئلہ نمبر 16 : اسی طرح اگر جانور ایک پاؤں سے لنگڑا ہے یعنی تین پاؤں سے چلتا ہے چوتھے پاؤں کا سہارا نہیں لیتا تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں، ہاں! اگر وہ چوتھے پاؤں سے سہارا لیتا ہے لیکن لنگڑا کے چلتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 17 : قربانی کا جانور خوب موٹا تازہ ہونا چاہیے  اگر جانور اس قدر کمزور ہو کہ ہڈیوں میں گودا بالکل نہ رہا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
نوٹ ! بعض لوگ موٹا تازہ جانور صرف دوسروں کو دکھلانے کے لئے یا اپنی عزت بڑھانے کے لیے خریدتے م ہیں، ایسے لوگ قربانی کے ثواب سے محروم ہوتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ موٹا تازہ جانور تلاش کرتے ہوئے صرف ثواب کی نیت کریں۔
مسئلہ نمبر 18: اگر کسی جانور کے تمام دانت گرگئے ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے اور اگر اکثر دانت باقی ہوں کچھ گر گئے ہو تو قربانی جائز ہے۔
اگر کسی جانور کی عمر پوری ہو اور ابھی دانت نہ نکلے ہوں تو بھی قربانی ہو سکتی ہے تاہم اس سلسلے میں صرف جانوروں کے عام سوداگروں کی بات معتبر نہیں بلکہ یقین سے معلوم ہونا ضروری ہے یا یہ کہ خود گھر میں پالا ہوا جانور ہو تو اس کی قربانی کی جا سکتی ہے ۔
مسئلہ نمبر 19: جس جانور کے پیدائشی کان ہی نہ ہو اس کی قربانی بھی جائز نہیں ہے۔
اعلان نمبر 20: اگر کسی جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں اس طور پر کے دماغ بھی متاثر ہوا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، اور اگر معمولی سے ٹوٹے ہوئے ہیں یا سرے سے سینگ ہی نہ ہوں، تو بلا کراہت جائز ہے
اسی طرح گائے، بکری وغیرہ کے اگر پیدائشی سینگ نہ ہوں تو اس کی قربانی بھی جائز ہے
مسئلہ نمبر 21 : خارش زدہ جانور کی قربانی جائز ہے البتہ اگر خارش کی وجہ سے بے حد کمزور ہو گیا ہو تو پھر جائز نہیں ۔
مسئلہ نمبر 22: اگر قربانی کے جانور میں کوئی عیب پیدا ہوا جس کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہ ہو تو مالدار شخص کے لئے یہ ضروری ہے کہ دوسرا جانور اس کے بدلے خرید کر قربانی کرے، اور اگر وہ غریب ہو تو اسی جانور کی قربانی کر سکتا ہے۔
اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لئے گراتے ہوئے کوئی عیب پیدا ہو جائے، مثال کے طور پر ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا سینگ وغیرہ ٹوٹ جائے تو اس سے قربانی پر اثر نہیں پڑے گا البتہ جانور کو گراتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔
مسئلہ نمبر 23 : قربانی کے گوشت میں بہتر یہ ہے کہ تین حصے کرے، ایک حصہ اپنے لیے رکھے، ایک حصہ رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ فقراء و مساکین کو م دے، لیکن اگر سارے کا سارا اپنے لئے رکھے تب بھی جائز ہے، یا سارا کا سارا فقراء و مساکین کو دے تو وہ بھی درست ہے۔
مسئلہ نمبر 24 : قربانی کی کھال کسی کو خیرات کے طور پر دے، یا فروخت کرکے اس کی قیمت فقراء کو دے، البتہ اگر کسی دینی تعلیم کے مدرسے اور جامع کو دے دے تو سب سے بہتر ہے کیونکہ علم دین کا احیاء سب سے بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر 25 : قربانی کی کھال کو اپنے مصرف میں بھی لایا جا سکتا ہے اس طور پر کی اس کا آئین باقی رہے مثال کے طور پر مصلیّٰ بنائے یا رسی یا چھلنی تو درست ہے۔
مسئلہ نمبر 26 : قربانی کی کھال کی قیمت مسجد کی مرمّت یا امام و مؤذن یا مدرّس حدیث یا خادم کی تنخواہ میں نہیں دی جا سکتی ہے، نہ اس سے مدارس کی تعمیر ہوسکتی ہے اور نہ شفاخانوں یا دیگر رفاہی اداروں کی
مسئلہ نمبر 27: قربانی کی کھال قصائی کو اجرت میں دینا جائز نہیں، اگر کسی کی قربانی کی کھال چوری ہوگئی یا چھن گئی، یا تو اسے چاہیے کہ وہ خال کی رقم صدقہ کرے اور اگر رقم نہ ہو تو کوئی حرج نہیں قربانی پر فرق نہیں پڑے گا۔
مسئلہ نمبر 28 : اگر قربانی کے تین دن گزر گئے اور قربانی نہیں کی، تو اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دے اور اگر جانور خریدا تھا، مگر قربانی نہیں کی، تو اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دیں اور اگر جانور خریدا تھا مگر قربانی نہیں کی تو بعینہٖ وہی جانور خیرات کر دے۔
مسئلہ نمبر 29 : ایصال ثواب کے لئے قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 30 : اگر کسی شخص کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی ، اسی طرح اگر کسی شخص کو اس کے حکم و اجازت کے بغیر قربانی میں شریک کیا، تو بھی قربانی صحیح نہیں ہوگی، اسی طرح  اگر حصہ داروں میں سے کوئی ایک صرف گوشت کی نیت سے شریک ہے تو کسی کی بھی قربانی صحیح نہ ہوگی۔
مسئلہ نمبر 31 : قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دے سکتا ہے؛ لیکن کسی کو اجرت میں نہیں دے سکتا
مسئلہ نمبر 32:گھابن جانوروں کی قربانی صحیح ہے اگر بچہ زندہ نکلے اس کو بھی ذبح کر دے اور گوشت آپس میں تقسیم کرنے کے بجائے صدقہ کر دیا جائے
قربانی کے جانور کے بال کاٹنا یا دودھ نکالنا درست نہیں ہے اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے صدقہ کریں اگر بیچ دیا تو اس کو صدقہ کرنا واجب ہے۔
مسئلہ نمبر 33 : جو شخص قربانی کرنا چاہے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ یکم ذوالحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ناخن
ہاں اگر زیر ناف اور بغل کے بالوں پر چالیس روز کا عرصہ گزر چکا ہو تو ان بالوں کی صفائی کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر 34: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک بھی رکھ سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 35 : جانور ذبح کرنے کے لیے چھری خوب تیز ہونی چاہیے تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 36 : اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت سارا کا سارا کسی اور کو کھلا دے، خود کچھ بھی نہ کھائے تو ایسا کر سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 37 : خصی جانوروں کی قربانی جائز بلکہ بہتر ہے کیونکہ اس میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ گوشت ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 38 : ذبح کرتے وقت تکبیر کے علاوہ کچھ اور 
نہیں کہنا چاہیے مثال کے طور پر (بسم اللہ تقبل من فلاں)۔
مسئلہ نمبر 39 : اگر کسی نے قربانی کی نذر مانی اور وہ کام ہو جائے تو قربانی واجب ہے اس کے گوشت سے خود نہیں کھا سکتا سارا فقراء اور مساکین کو کھلا دے۔
مسئلہ نمبر 40 : اگر کسی شخص کی ساری یا اکثر آمدنی حرام کی ہو، تو اس کو اپنے ساتھ قربانی میں شریک نہیں کرنا چاہیے، اگر شریک کیا تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی، ایسا شخص جس کی ساری کمائی حرام کی ہو اس پر قربانی لازم نہیں؛ کیونکہ اس کا سارا مال واجب التصدق ہے یعنی بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دینا ہے ثواب کی کوئی نیت نہیں رکھنی ہے، دوسرے یہ کہ اللہ تعالی حرام مال سے کسی کا صدقہ قبول نہیں فرماتے بلکہ وہاں صرف پاکیزہ مال سے کیا ہوا صدقہ و خیرات قبول ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 41 : کسی نے مرتے وقت وصیت کی کہ میرے مال سے قربانی کی جائے، تو اس قربانی کا سارا گوشت خیرات کرنا ضروری ہے، اس میں سے خود کچھ بھی نہ کھائیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو قربانی کی روح اور حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری ظاہری قربانی حقیقی قربانی کے لئے پیش خیمہ ہو اور ہم اس ظاہری و مادی قربانی کی طرح اللہ کے حکم پر اپنی جان کی قربانی کے لئے بھی ہمیشہ تیار رہیں
آمین

Sunday, 4 July 2021

Qurbani kb r kis pr wajib ha

 قربانی کب واجب ہوتی ہے 

قربانی کے واجب ہونے کے لئے چار شرطیں ہیں

نمبر 1 آزاد ہونا 
نمبر 2 : مسلمان ہونا
نمبر 3 ایام قربانی میں مقیم ہونا 
نمبر 4 ایام قربانی میں بقدر نصاب مال یعنی ( روپیہ پیسہ چاندی سونا یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد سازوسامان کا مالک ہونا
قربانی کے واجب ہونے کا سبب
قربانی کے واجب ہونے کا سبب قربانی کے ایام ہیں پس جو شخص ایام قربانی کو اس حالت میں پائے کہ اس میں قربانی کے واجب ہونے کی اوپر ذکر کی ہوئی تمام شرطیں پائی جارہی ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی اور ایام قربانی سے پہلے قربانی معتبر نہ ہوگی

قربانی کے وقت کا شہر اور گاؤں میں فرق

 قربانی کے وقت میں شہر اور گاؤں میں کوئی فرق رہے گا یا دونوں کا وقت ایک ہی ہوگا

قربانی کا اصل وقت دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے شروع ہو کر بارہ ذی الحجہ کی سورج غروب ہونے تک رہتا ہے ، جس بڑی آبادی میں عید کی نماز ہوتی ہے وہاں نماز عید الاضحی کے بعد قربانی درست ہوگی اور جہاں نماز عید جائز نہ ہو جیسے چھوٹے گاؤں اور دیہات تو وہاں صبح سات کے فورا بعد سے قربانی درست ہے

نوٹ : تاہم دیہات والوں کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ سورج طلوع ہونے کے بعد ہی قربانی کریں 

Qurbani ke din, قربانی کے دن

 قربانی کے دن

قربانی کے ایام تین ہیں ہیں یعنی دس گیارہ اور بارہ ذی الحجہ، سے پہلے یا بعد میں قربانی معتبر نہیں ہے 

کون سے دن قربانی افضل ہے 

دس 10 ذی الحجہ کو قربانی کرنا سب سے افضل ہے، اس کے بعد گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کا درجہ ہے

سوال : رات کے وقت میں قربانی کرنا کیسا ہے؟

جواب : ایام قربانی میں رات میں قربانی کرنا بھی کراہت کے ساتھ معتبر ہے لیکن روشنی وغیرہ کا انتظام رکھیں ایسا نہ ہو کہ اندھیرے کی وجہ سے ذبح کرنے میں کمی رہ جائے

قربانی کے مسائل، Qurbani ke masail



"اسلام میں قربانی کا حکم"

اللہ تعالی نے انسان کو مخدوم اور دیگر تمام مخلوقات کو انسان کا خادم بنایا ہے ان خادموں میں جاندار بھی ہیں اور بے جان بھی ہیں بے جان چیزوں سے تو آدمی نفع اٹھاتا ہے اور جانداروں سے بھی فائدہ اس کے لیے جائز کیا گیا ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے کی شکلیں مختلف ہے کسی کو سواری کے کام میں لیا جاتا ہے جاتا ہے بعض جانوروں کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے انہیں فوائد میں سے ایک اہم فائدہ گوشت کھانے کا بھی ہے 

کیوں کہ طبعی طور پر پر انسان گوشت خور واقع ہے تاہم شریعت میں ایسے جانوروں کے گوشت کو حرام کر دیا جن میں ظاہری یا باطنی گندگی پائی جاتی ہوں اور درندے وغیرہ ظاہری طور پر گندے ہونے کی وجہ سے ان کو حرام قرار دیا گیا جبکہ غیر اللہ پر بھینٹ چڑھائے جانے والے جانوروں کو باطنی طور پر گندہ ہونے کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا

اب دنیا میں پرانی قوموں سے یہ دستور رہا ہے کہ جانوروں کے خون بہانے کو تقرب کا ذریعہ سمجھا گیا اور حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے واقعے میں اللہ کی رضا جوئی کی خاطر جنتی مینڈھے کی قربانی کرا کر عملاً اس تصور کو صحیح رخ دے دیا گیا اور اسلام میں بھی یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ مشروع بلکہ مطلوب و محمود قرار پایا اور وسعت والوں پر خاص دنوں میں متعینہ جانوروں میں سے قربانی پیش کر کے تقرب خداوندی کے حصول کو واجب قرار دیا گیا اور اس پر اتنی تاکید کی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا 

من وجد سعۃ لأن یضحی فلم یضح فلا یحضر مصلانا

ترجمہ : جو آدمی قربانی کی گنجائش رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے

پیغمبر علیہ السلام کے درج بالا ارشاد سے اسلام میں قربانی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے  قربانی کے ایام دیگر عبادات کے مقابلے میں قربانی کا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے چنانچہ ام المؤمنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم إنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض فطيبوا بها نفسا

ترجمہ قربانی کے دن میں کوئی عمل اللہ تعالی کو خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے اور یہ قربانی کا جانور قیامت کے میدان میں اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی میں بہایا جانے والا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے دربار میں قبولیت کا مقام حاصل کر لیتا ہے لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو 

ما عمل آدمی

واضح ہو کے ایام قربانی میں جانور کا ذبح کرنا ہی لازم ہے جانور کی قیمت کے صدقے سے کام نہیں چل سکتا ہے اور جو شخص اس کے باوجود قربانی نہیں کرے گا وہ سخت گنہگار ہوگا کیونکہ وہ واجب کا چھوڑ نے والا ہے آج کل بعض ماڈرن ذہن والے لوگ قربانی کے بجائے صدقہ کرنے پر زور دیتے ہیں تو ان کی یہ بات شریعت کے خلاف ہے اور لائق توجہ ہرگز نہیں ہے 


Thursday, 1 July 2021

Introduction of the Qur'an , قرآن کا تعارف

 سوال : قرآن مجید کیا ہے؟
جواب : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، جو تمام 
انسانوں کی ہدایت کا واحد ذریعہ ہے

سوال : یہ کیسے معلوم ہوا کہ قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے؟
جواب : اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے فرمایا کہ یہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اللہ نے یہ میرے اوپر نازل کی ہے 

سوال : قرآن مجید حضرت محمد ﷺ پر پورا ایک ہی بار نازل ہوا یا تھوڑا تھوڑا؟
جواب : تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا ، کبھی ایک آیت ، کبھی دو چار آیتیں، کبھی پوری ایک سورت  جیسے ضرورت ہوتی گئی اترتا گیا

سوال : کتنے دنوں میں پورا قرآن کریم نازل ہوا؟
جواب : پورے 23 سال میں

سوال : قرآن مجید کس طرح نازل ہوتا تھا؟
جواب : حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آیت یا سورت سنا دیتے تھے، آپ اسے یاد کر لیتے تھے اور کسی لکھنے والے کو بلا کر لکھوا دیتے تھے

سوال : آپ خود کیوں نہیں لکھتے تھے ؟
جواب : اس لیے کہ آپ امی تھے

سوال : امی کسے کہتے ہیں؟
جواب : جس نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا ہو اسے امی کہتے ہیں اگر چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا لیکن اللہ تعالی نے آپ کو تمام مخلوق سے زیادہ علم دیا تھا

سوال : قرآن مجید اللہ تعالی کی کتاب ہے یا اللہ تعالی کا کلام ہے؟
جواب : قرآن مجید اللہ تعالی کی کتاب بھی ہے اور اللہ تعالی کا کلام بھی ہے قرآن کریم میں اسے کتاب اللہ اور کلام اللہ دونوں کہا گیا ہے

سوال : کیا صرف قرآن مجید ہی اللہ کی کتاب ہے یا  کوئی اور کتاب بھی ہے ؟
قرآن مجید سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بہت سے انبیاء پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے جن میں چار بڑی کتابیں ہیں
توریت، زبور اور انجیل یہ بھی اللہ تعالی کی کتابیں ہیں

سوال : تو کیا تورات زبور انجیل جو موجودہ عیسائیوں کے پاس ہیں وہی اصل تورات زبور اور انجیل ہیں؟
جواب : نہیں کیوں کہ قرآن کریم سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ لوگوں نے ان کتابوں میں ادل بدل کر دیا ہے 
موجودہ توریت زبور انجیل یہ اصلی آسمانی کتابیں نہیں ہیں، بلکہ ان میں تحریف (ادل بدل) ہوئی ہے، لہذا ان کے بارے میں یقین نہیں رکھنا چاہیے کہ یہ آسمانی کتابیں ہیں

سوال : تمام آسمانی کتابوں میں سب سے افضل کون سی کتاب ہے؟
جواب : تمام آسمانی کتابیں توریت زبور انجیل اور قرآن مجید میں سے سب سے افضل قرآن مجید ہے

سوال : قرآن مجید کو پہلی کتابوں پر کیا فضیلت حاصل ہے ؟
جواب : بہت سی فضیلتیں ہیں ہیں جن میں سے چند فضیلتیں یہ ہیں
اول یہ کہ قرآن مجید کا ایک ایک حرف اور ایک ایک لفظ محفوظ ہے، اس میں ایک نقطے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک ہو سکے گی اور پہلی کتابوں میں لوگوں نے تحریف کر ڈالی
دوسری یہ کہ قرآن مجید کے عبارت مُعجِز ہے ہے یعنی ایسے اونچے درجے کی عبارت ہے کہ قرآن مجید کی چھوٹی سی چھوٹی سورت کے مشابہ تھے اس جیسا کوئی شخص نہیں بنا سکتا
تیسری یہ کہ قرآن مجید آخری شریعت کے احکام لایا ہے اس لئے اس کے بہت سے احکام نے پہلی کتابوں کے حکموں کو منسوخ کر دیا
چوتھی یہ کی پہلی کتابیں ایک دفعہ ہی اکٹھے نازل ہوئی اور قرآن مجید 23 برس تک ضرورتوں کے لحاظ سے تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا ہاں آہستہ آہستہ اور ضرورتوں کے وقت اترنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اترتا گیا اور سینکڑوں ہزاروں آدمی اس کے احکام کو قبول کرتے اور مسلمان ہوتے گئے
پانچویں یہ کہ قرآن مجید ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے ہے اور یہ سینہ بسینہ حفاظت کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے سے آج تک برابر چلی آتی ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گی
اسی سینہ بسینہ حفاظت کی وجہ سے اسلام کے دشمنوں کو کسی وقت موقع نہ ملا کہ قرآن میں کمی بیشی کر سکیں یا اسے دنیا سے ناپید کرتے اور نہ ہی خدا چاہے قیامت تک ایسا موقع ملے گا
چھٹی یہ کہ قرآن مجید کے احکام ایسے معتدل ہیں کہ ہر زمانے اور ہر قوم کے مناسب ہے دنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں کہ وہ قرآن مجید کے احکام پر عمل کرنے سے عاجز ہو  چونکہ قرآن مجید کے احکام ہر زمانے میں اور ہر قوم کے مناسب ہیں اس لئے قرآن کریم کے نازل ہونے کے بعد کسی دوسری شریعت اور کسی دوسری آسمانی کتاب کی حاجت باقی نہیں رہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام دنیا کے لیے عام کر دی گئی

Hazrat e Umar Farooq

حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ۔۔۔۔۔ سلسلہ نسب: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کع...