Tuesday, 10 August 2021

Hazrat e Umar Farooq


حضرت عمر فاروقؓ
خلیفہ ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ۔۔۔۔۔
سلسلہ نسب: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک۔۔۔
حضرت عمر ؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر جا کر نبی کریمﷺ سے ملتا ہے۔
ہجرت نبوی سے چالیس سال قبل اور عام الفیل سے تیرہ سال قبل ولادت ہوئی۔۔
ذی الحجہ سن 6 نبوی مین چھبیس ستائیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔
عفوان شباب کے جھمیلوں میں پڑنے کی بجائے حضرت عمر نے بچپن کے مراحل طے کرنے کے بعد فنون نسب دانی ،سپہ گری ،پہلوانی اور مقرری میں کمال پیدا کیا۔
ان سب کے علاوہ حضرت عمرؓ نے شہ زوری اور ریاض میں کمال حاصل کیا،انہوں نے عکاظ کے دنگل میں کئی معرکتہ الاراء کشتیاں لڑیں۔بائیں ہاتھ سے بھی دائیں ہی کی طرح کام کر سکتے تھے۔شہ سواری میں بھی آپؓ کا کمال تسلیم شدہ تھا۔۔۔۔دوڑتے گھوڑے پر بھی اچک کر بیٹھ سکتے تھے۔

حضرت عمرؓ کی فضیلت 
فاروق اعظم حضرت عمرؓ کے متعلق ارشاد نبویﷺ ہے کہ 
"تحقیق تم سے پہلی امتوں میں محدث یعنی ایسے لوگ ہوا کرتے تھے جن کے دلوں پر حق بات کا الہام ہوا کرتا تھا،اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمرؓ ہے۔(متفق علیہ)
ایک اور حدیث میں ہے،: بے شک اللہ تعالی نے حق کو عمرؓ کی زبان پر رکھا ہے،اسی حق کے ساتھ وہ بولتے ہیں۔۔(مشکوۃ)
خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروق کی ذات بیک وقت عدالت و صداقت ،شجاعت و متانت،امانت و دیانت،حق گوئی اور سادگی جیسی عظیم صفات کا ایک ایسا حسین امتزاج اور دلکش مجموعہ تھی کہ اس کی نظیر رہتی دنیا تک پیش کرنا محال ہے۔
حضرت عمرؓ کے قلب صادق میں اللہ تعالی نے نزول قران سے پہلے ہی بہت سی ایسی باتیں ودیعت فرما دی تھیں اور زبان عمرؓ سے اس کا اظہار بھی کرا دیا تھا جو بعد میں دنیا کی سب سے مستند کتاب قران حکیم کا جزو بن کر قیامت تک کے لئے محفوظ کر دی گئیں۔چنانچہ کتاب مبین کی کتنی ہی آیات ایسی ہیں جو حضرت عمر کے قلب منور کے پاکیزہ جذبات کی ترجمان بن کر نازل ہوئیں۔۔۔۔ان تمام آیات کو اس مختصر مضمون میں پیش کرنا ممکن نہیں صرف ایک آیت نمونے کے طور پر پیش ہے۔
# بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم مقام ابراہیم کو مصلی بنا لیں یعنی طواف کے بعد یہاں دو رکعتیں پڑھ لیا کریں۔۔۔۔حضرت عمرؓ کے اس اظہار خواہش کے تھوڑی ہی دیر بعد قران حکیم کی یہ آیت نازل ہوئی۔
" اور حکم دیا کہ ،جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔(سورۃ البقرہ:125)۔۔۔۔۔۔
روایت حدیث:آپؓ نے 539 حدیثوں کی روایت کی،ان کی دس حدیثیں متفق علیہ ہیں۔امام بخاری نے 9 اور امام مسلم نے 15 حدیثیں جدا جدا لی ہیں۔۔
حضرت عمر فاروقؓ کے چھ نبوی میں اسلام لانے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کو خوب تقویت ملی،حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ہمارا یہ حال تھا کہ ہم کعبہ کے پاس جا کر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ۔جب حضرت عمرؓ اسلام لائے تو انہوں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کیا ہم حق پر نہیں؟نبی ﷺ نے فرمایا "یقیناً ہم حق پر ہیں
پھر حضرت عمر نے علی الاعلان کعبتہ اللہ میں نماز پڑھی۔اسی طرح جب ہجرت کا وقت آیا تو بڑی شان سے ایک ہاتھ میں برہنہ تلوار لی،دوسرے میں تیر،جبکہ پشت پر کمان لگائی اور خانہ کعبہ میں آئے ،سات مرتبہ طواف کیا،نماز ادا کیا اور پھر سرداران قریش کے حلقے میں آئےاور با آواز بلند فرمایا" تمہارے منہ کالے ہوں،جو شخص اپنی ماں کو بے فرزند ،اپنی بیوی کو بیوہ اور اولاد کو یتیم کرنا چاہتا ہو وہ میرے مقابلے پر آئے،:،لیکن کفار میں کسی کی جرأت نہ ہوئی کہ موت کی یہ دعوت قبول کرے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ بیس افراد کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔۔
حضرت عمرؓ خلافت سے قبل حضرت ابو بکرؓ کے دست راست اور مشیر خاص تھے،کبھی اختلاف رائے ہو جاتا تو باہم ایک دوسرے کی اتنی عزت کرتے تھے کہ اسے نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے بستر مرگ پر بلا تامل ان کو اپنا جا نشین مقرر کیا ،چناچہ حضرت عثمان کو بلا کر ایک وصیت نامہ املا کرایا،جس میں حضرت عمر کی جانشینی کا ذکر تھا۔
حضرت عمر فارووقؓ کی اسلام کے بعد کی تمام زندگی خدمت اسلام سے عبارت ہے۔خلافت کے بعد انہوں نے جو تاریخ ساز کارنامے انجام دیے وہ تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ان کے کارناموں کو نہ صرف مسلمان دانشوروں بلکہ غیر مسلم دانشوروں نے اور تاریخ دانوں نے ان کے کارناموں کو سنہری حروف سے لکھا ہے۔۔
حضرت عمرؓ کی خلافت کی مدت دس سال چھ ماہ ہے۔
وفات:بدھ کے روز 26 ذی الحجہ کو مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لولو نے نماز پڑھتے ہوئے ان کو برچھا مارا، جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ تدفین یکم محرم الحرام سن 24 ھ کو ہوئی۔نماز جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی۔۔۔
حضرت عبدالرحمنؓ،حضرت علیؓ،حضرت عثمانؓ،طلحہؓ،سعد بن وقاصؓ،اور عبد الرحمن بن عوفؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قبر میں اتارا۔اور ایک آفتاب خاک میں چھپ گیا۔۔۔تدفین رسول ﷺ کے پہلو میں حضرت ابو بکر کے پاس دفن کیا گیا۔۔۔۔

Monday, 9 August 2021

aik sahabia ki ajeeb khaahish

ایک صحابیہؓ کی عجیب خواہش

 ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ جہاد کی تیاری کریں ، مدینہ کے ہر گھر میں جہاد کی تیاریاں زوروں پر تھیں، ایک گھر میں ایک صحابیہؓ اپنے معصوم بچے کو گود میں لئے زار و قطار رو رہی تھیں، اس کے خاوند پہلے کسی جہاد میں شہید ہو گئے تھے،  اب گھر میں کوئی بھی ایسا مرد نہ تھا کہ جس کو یہ تیار کر کے نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد میں بھیجتیں، جب بہت دیر تک روتی رہیں، اور طبیعت بھر آئی ، تو اپنے معصوم بچے کو سینے سے لگایا اور مسجد نبویﷺ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوئیں، اپنے بیٹے کو نبی علیہ السلام کی گود میں ڈال کر کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بیٹے کوبھی جہاد کے لیے قبول فرمائیں! نبی علیہ السلام نے حیران ہوکر فرمایا : یہ معصوم بچہ جہاد میں کیسے جا سکتا ہے،  اور  رو کر کہنے لگیں: کہ میرے گھر میں کوئی بڑا مرد نہیں کہ جس کو بھیج سکوں، آپ ﷺ اسی کو قبول کر لیں!  آپﷺ نے فرمایا: یہ بچہ کیسے جہاد کرےگا،  وہ صحابیہؓ کہنے لگیں: کہ میرے اس بچے کو کسی ایک مجاہد کے حوالے کر دیں!  جس کے ہاتھ میں ڈھال نہ ہو،  تاکہ جب وہ مجاہد کفار کے سامنے مقابلے کے لیے جائے اور کافر تیروں کی بارش برسائیں، تو وہ مجاہد تیروں سے بچنے کے لئے میرے بیٹے کو آگے کر د ے، میرا بیٹا تیروں کو روکنے کے کام آسکتا ہے

 سبحان اللہ !! تاریخ انسانیت ایسی  مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے کہ عورت اور ماں جیسی شفیق ہستی فرمان نبویﷺ کو سن کر اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے اتنی بےقرار ہوئی ہے کہ معصوم بچے کو شہادت کے لئے پیش کر دیتی ہیں 

Saturday, 7 August 2021

Ishq e rasool (SAW) عشق رسولﷺ

ایک صحابیہؓ کا عشق رسول ﷺ   

جنگ احد میں یہ خبر چاروں طرف پھیل گئی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں، مدینہ کی عورتیں شدت غم سے روتی ہوئی گھروں سے باہر نکل آئیں، ایک انصاریہ صحابیہؓ کہنے لگیں کہ میں اس بات کو اس وقت تک تسلیم نہیں کروں گی، جب تک کہ خود اس کی تصدیق نہ کر لوں، چنانچہ وہ اونٹ پر سوار ہو کر احد کی طرف نکل پڑیں 

   جب میدان جنگ کے قریب پہنچیں، تو ایک صحابی سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دئے، ان سے پوچھنے لگیں، ما بال محمد ﷺ ( کہ محمد ﷺ کا کیا حال ہے)، انہوں نے کہا : کہ معلوم نہیں؛ لیکن تمہارے بھائی کی لاش فلاں جگہ پڑی ہوئی دیکھی ہے، وہ اس خبر کو سن کر بالکل بھی نہیں گھبرائی، اور آگے بڑھ کر دوسرے صحابی سے پوچھا، ما بال محمدﷺ، انہوں نے جواب دیا کہ معلوم نہیں مگر میں نے تمہارے والد کی لاش فلاں جگہ پڑی ہوئی ہے، وہ یہ سن کر بھی پریشان نہ ہوئی بلکہ آگے بڑھ کر تیسرے صحابی سے پوچھا ما بال محمد ﷺ، انہوں نے بتایا کہ میں نے تمہارے خاوند کی لاش فلاں جگہ پڑی ہوئی ملی، یہ سن کر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئی، پھر پوچھا کہ مجھے نبی ﷺ کی خیریت کے بارے میں بتاوٗ کسی نے کہا : کہ میں نے نبی ﷺ کو فلاں جگہ خیریت سے دیکھا ہے، یہ سن کر وہ تیزی سے اس طرف کو روانہ ہوئی ،جب نبی ﷺ کو سامنے خیریت سے دیکھا، تو آپ کے قریب پہنچ کر چادر کا ایک کونہ پکڑ کر کہا : کل مصیبۃ بعد محمد جلل (ہر مصیبت آپ ﷺ کے بعد آسان ہے)، 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابیات کے قلوب میں جو محبت نبی ﷺ کے لئے تھی وہ باپ بھائی اور شوہر کی محبت سے بھی زیادہ تھی یہی ایمان کامل کی نشانی بتائی گئی ہے (سیرت ابن ہشام)

Hazrat e Umar Farooq

حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ۔۔۔۔۔ سلسلہ نسب: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کع...