یہاں پر دین کے بنیادی مسائل، قرآن کریم کی تفسیر، نیز سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپلوڈ کی جائے گی ان شاءاللہ
Tuesday, 10 August 2021
Hazrat e Umar Farooq
Monday, 9 August 2021
aik sahabia ki ajeeb khaahish
ایک صحابیہؓ کی عجیب خواہش
ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ جہاد کی تیاری کریں ، مدینہ کے ہر گھر میں جہاد کی تیاریاں زوروں پر تھیں، ایک گھر میں ایک صحابیہؓ اپنے معصوم بچے کو گود میں لئے زار و قطار رو رہی تھیں، اس کے خاوند پہلے کسی جہاد میں شہید ہو گئے تھے، اب گھر میں کوئی بھی ایسا مرد نہ تھا کہ جس کو یہ تیار کر کے نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد میں بھیجتیں، جب بہت دیر تک روتی رہیں، اور طبیعت بھر آئی ، تو اپنے معصوم بچے کو سینے سے لگایا اور مسجد نبویﷺ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوئیں، اپنے بیٹے کو نبی علیہ السلام کی گود میں ڈال کر کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بیٹے کوبھی جہاد کے لیے قبول فرمائیں! نبی علیہ السلام نے حیران ہوکر فرمایا : یہ معصوم بچہ جہاد میں کیسے جا سکتا ہے، اور رو کر کہنے لگیں: کہ میرے گھر میں کوئی بڑا مرد نہیں کہ جس کو بھیج سکوں، آپ ﷺ اسی کو قبول کر لیں! آپﷺ نے فرمایا: یہ بچہ کیسے جہاد کرےگا، وہ صحابیہؓ کہنے لگیں: کہ میرے اس بچے کو کسی ایک مجاہد کے حوالے کر دیں! جس کے ہاتھ میں ڈھال نہ ہو، تاکہ جب وہ مجاہد کفار کے سامنے مقابلے کے لیے جائے اور کافر تیروں کی بارش برسائیں، تو وہ مجاہد تیروں سے بچنے کے لئے میرے بیٹے کو آگے کر د ے، میرا بیٹا تیروں کو روکنے کے کام آسکتا ہے
سبحان اللہ !! تاریخ انسانیت ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے کہ عورت اور ماں جیسی شفیق ہستی فرمان نبویﷺ کو سن کر اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے اتنی بےقرار ہوئی ہے کہ معصوم بچے کو شہادت کے لئے پیش کر دیتی ہیں
Saturday, 7 August 2021
Ishq e rasool (SAW) عشق رسولﷺ
ایک صحابیہؓ کا عشق رسول ﷺ
جنگ احد میں یہ خبر چاروں طرف پھیل گئی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں، مدینہ کی عورتیں شدت غم سے روتی ہوئی گھروں سے باہر نکل آئیں، ایک انصاریہ صحابیہؓ کہنے لگیں کہ میں اس بات کو اس وقت تک تسلیم نہیں کروں گی، جب تک کہ خود اس کی تصدیق نہ کر لوں، چنانچہ وہ اونٹ پر سوار ہو کر احد کی طرف نکل پڑیں
جب میدان جنگ کے قریب پہنچیں، تو ایک صحابی سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دئے، ان سے پوچھنے لگیں، ما بال محمد ﷺ ( کہ محمد ﷺ کا کیا حال ہے)، انہوں نے کہا : کہ معلوم نہیں؛ لیکن تمہارے بھائی کی لاش فلاں جگہ پڑی ہوئی دیکھی ہے، وہ اس خبر کو سن کر بالکل بھی نہیں گھبرائی، اور آگے بڑھ کر دوسرے صحابی سے پوچھا، ما بال محمدﷺ، انہوں نے جواب دیا کہ معلوم نہیں مگر میں نے تمہارے والد کی لاش فلاں جگہ پڑی ہوئی ہے، وہ یہ سن کر بھی پریشان نہ ہوئی بلکہ آگے بڑھ کر تیسرے صحابی سے پوچھا ما بال محمد ﷺ، انہوں نے بتایا کہ میں نے تمہارے خاوند کی لاش فلاں جگہ پڑی ہوئی ملی، یہ سن کر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئی، پھر پوچھا کہ مجھے نبی ﷺ کی خیریت کے بارے میں بتاوٗ کسی نے کہا : کہ میں نے نبی ﷺ کو فلاں جگہ خیریت سے دیکھا ہے، یہ سن کر وہ تیزی سے اس طرف کو روانہ ہوئی ،جب نبی ﷺ کو سامنے خیریت سے دیکھا، تو آپ کے قریب پہنچ کر چادر کا ایک کونہ پکڑ کر کہا : کل مصیبۃ بعد محمد جلل (ہر مصیبت آپ ﷺ کے بعد آسان ہے)،
اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابیات کے قلوب میں جو محبت نبی ﷺ کے لئے تھی وہ باپ بھائی اور شوہر کی محبت سے بھی زیادہ تھی یہی ایمان کامل کی نشانی بتائی گئی ہے (سیرت ابن ہشام)
Saturday, 10 July 2021
Golden words
تقویٰ" کا لفظی مطلب "بچنا" ہے۔ قرآن کا مقصد چوں کہ جہنم کے نقصان اور جنت کی محرومی سے بچانا ہے اس لیے اس کی یہ دعوت صرف ان لوگوں کی سمجھ میں آسکتی ہے جو "تقوی" یعنی نقصان اور محرومی سے بچنے کی نفسیات میں جی رہے ہوں۔ ایک عام انسان اپنی زندگی اسی تقوی کے اصول پر گزارتا ہے۔ یعنی وہ ہر نقصان اور تکلیف سے بچنا چاہتا ہے۔ اس کی ساری تگ ودو بھوک، پیاس، بے گھری، بے روزگاری وغیرہ سے بچنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس طرح ہر انسان اصل میں متقی ہوتا ہے۔ قرآن بس اتنا کہتا ہے کہ اپنے تقوٰی کا رخ دنیا کے ساتھ آخرت کی طرف بھی کر لو۔ یعنی آخرت کے نقصان سے بچنے کی بھی فکر کرلو۔یہی لوگ قرآن کی اصطلاح میں "متقی" ہیں۔ جو لوگ ان معنوں میں متقی نہیں قرآن کا کوئی مطالبہ ان پر مؤثر نہیں ہوتا۔🪴*
جس معاشرے میں عفت و عصمت بے وقعت ہو جائے اور عہد اور امانت کے بارے میں لوگ بے پروا ہو جائیں وہاں آخر کار تمام خاندانی اور سماجی اقدار ختم ہو جاتی ہیں*۔
*انسان اور جانوروں میں اصل فرق اقدار کا ہے۔ جانور صرف مفاد اور خواہش کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ جانوروں میں رشتے نہیں ہوتے۔ وہاں نر کے لیے مادہ صرف ایک مادہ ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔ وہ احساسِ امانت اور عہد کی پاسداری کے تصور سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ صرف جبلت کو جانتے ہیں۔ اگر انسان بھی حیا، عہد، امانت، اقدار کو بھول کر جبلت، خواہش اور مفاد کو زندگی بنالیں، عہد کو توڑیں، امانت میں خیانت کریں اور زنا و بدکاری میں عام ہوجائیں تو ان میں اور جانوروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ سوائے اس کے کہ جانوروں کا جنگل اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے، مگر انسانی مُعاشرے اس کے بعد تباہ ہو جاتے ہیں۔🪴*
انسان اکثر اپنی زبان سے لوگوں کو دکھی کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک بندہ مومن سے خدا کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے کسی کو دکھ نہ پہنچے۔ غیبت، بہتان تراشی، تضحیک و تذلیل، طعنہ زنی، چغلخوری، سخت کلامی جیسے رذائل تو دور کی بات ہے، خدا کے بندوں کے منہ سے ہمیشہ لوگوں کے لیے اچھی باتیں نکلتی ہیں۔ یہ بات جس میں نہیں وہ بندہ مومن نہیں۔
اسی طرح یہ بات بھی اس حکم سے نکلتی ہے کہ بندہ مومن نیکی اور خیر کی باتیں ہی دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اس کا کلام اچھائی ہی کی تلقین کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ برائی کی دعوت دینے والا۔
اچھائی پھیلانی پڑتی ہے، برائی تو خود ہی پھیل جاتی ہے
اولاد کو با ادب بنانے کا بہترین طریقہ، اُن کے ساتھ عزت سے پیش آنا ہے
Thursday, 8 July 2021
Juma ke din ki sunnaten, جمعہ کے دن کی سنتیں
Wednesday, 7 July 2021
Qurbani ke masail قربانی کے 40 اہم مسائل
اور ذبح کرنے سے پہلے درج ذیل دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لے:
"اللّٰهُم َّمِنْكَ وَ لَكَ" پھر ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر ذبح کرے ، اور ذبح کرنے کے بعد اگر درج ذیل دعا یاد ہو تو پڑھ لے:
"اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّيْ كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيْلِكَ إبْرَاهِيْمَ عليهما السلام".
اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہو تو "مِنِّيْ" کی جگہ " مِنْ " کے بعد اس شخص کا نام لے لے
Sunday, 4 July 2021
Qurbani kb r kis pr wajib ha
قربانی کب واجب ہوتی ہے
قربانی کے واجب ہونے کے لئے چار شرطیں ہیں
قربانی کے وقت کا شہر اور گاؤں میں فرق
قربانی کے وقت میں شہر اور گاؤں میں کوئی فرق رہے گا یا دونوں کا وقت ایک ہی ہوگا
قربانی کا اصل وقت دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے شروع ہو کر بارہ ذی الحجہ کی سورج غروب ہونے تک رہتا ہے ، جس بڑی آبادی میں عید کی نماز ہوتی ہے وہاں نماز عید الاضحی کے بعد قربانی درست ہوگی اور جہاں نماز عید جائز نہ ہو جیسے چھوٹے گاؤں اور دیہات تو وہاں صبح سات کے فورا بعد سے قربانی درست ہے
نوٹ : تاہم دیہات والوں کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ سورج طلوع ہونے کے بعد ہی قربانی کریں
Qurbani ke din, قربانی کے دن
قربانی کے دن
قربانی کے ایام تین ہیں ہیں یعنی دس گیارہ اور بارہ ذی الحجہ، سے پہلے یا بعد میں قربانی معتبر نہیں ہے
کون سے دن قربانی افضل ہے
دس 10 ذی الحجہ کو قربانی کرنا سب سے افضل ہے، اس کے بعد گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کا درجہ ہے
سوال : رات کے وقت میں قربانی کرنا کیسا ہے؟
جواب : ایام قربانی میں رات میں قربانی کرنا بھی کراہت کے ساتھ معتبر ہے لیکن روشنی وغیرہ کا انتظام رکھیں ایسا نہ ہو کہ اندھیرے کی وجہ سے ذبح کرنے میں کمی رہ جائے
قربانی کے مسائل، Qurbani ke masail
اللہ تعالی نے انسان کو مخدوم اور دیگر تمام مخلوقات کو انسان کا خادم بنایا ہے ان خادموں میں جاندار بھی ہیں اور بے جان بھی ہیں بے جان چیزوں سے تو آدمی نفع اٹھاتا ہے اور جانداروں سے بھی فائدہ اس کے لیے جائز کیا گیا ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے کی شکلیں مختلف ہے کسی کو سواری کے کام میں لیا جاتا ہے جاتا ہے بعض جانوروں کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے انہیں فوائد میں سے ایک اہم فائدہ گوشت کھانے کا بھی ہے
کیوں کہ طبعی طور پر پر انسان گوشت خور واقع ہے تاہم شریعت میں ایسے جانوروں کے گوشت کو حرام کر دیا جن میں ظاہری یا باطنی گندگی پائی جاتی ہوں اور درندے وغیرہ ظاہری طور پر گندے ہونے کی وجہ سے ان کو حرام قرار دیا گیا جبکہ غیر اللہ پر بھینٹ چڑھائے جانے والے جانوروں کو باطنی طور پر گندہ ہونے کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا
اب دنیا میں پرانی قوموں سے یہ دستور رہا ہے کہ جانوروں کے خون بہانے کو تقرب کا ذریعہ سمجھا گیا اور حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے واقعے میں اللہ کی رضا جوئی کی خاطر جنتی مینڈھے کی قربانی کرا کر عملاً اس تصور کو صحیح رخ دے دیا گیا اور اسلام میں بھی یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ مشروع بلکہ مطلوب و محمود قرار پایا اور وسعت والوں پر خاص دنوں میں متعینہ جانوروں میں سے قربانی پیش کر کے تقرب خداوندی کے حصول کو واجب قرار دیا گیا اور اس پر اتنی تاکید کی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
من وجد سعۃ لأن یضحی فلم یضح فلا یحضر مصلانا
ترجمہ : جو آدمی قربانی کی گنجائش رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے
پیغمبر علیہ السلام کے درج بالا ارشاد سے اسلام میں قربانی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے قربانی کے ایام دیگر عبادات کے مقابلے میں قربانی کا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے چنانچہ ام المؤمنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم إنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض فطيبوا بها نفسا
ترجمہ قربانی کے دن میں کوئی عمل اللہ تعالی کو خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے اور یہ قربانی کا جانور قیامت کے میدان میں اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی میں بہایا جانے والا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے دربار میں قبولیت کا مقام حاصل کر لیتا ہے لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو
ما عمل آدمی
واضح ہو کے ایام قربانی میں جانور کا ذبح کرنا ہی لازم ہے جانور کی قیمت کے صدقے سے کام نہیں چل سکتا ہے اور جو شخص اس کے باوجود قربانی نہیں کرے گا وہ سخت گنہگار ہوگا کیونکہ وہ واجب کا چھوڑ نے والا ہے آج کل بعض ماڈرن ذہن والے لوگ قربانی کے بجائے صدقہ کرنے پر زور دیتے ہیں تو ان کی یہ بات شریعت کے خلاف ہے اور لائق توجہ ہرگز نہیں ہے
Thursday, 1 July 2021
Introduction of the Qur'an , قرآن کا تعارف
Wednesday, 30 June 2021
Introduction of the Prophet Muhammad swa
Kufr o shirk
Tuesday, 29 June 2021
Deen e islam
Kalima e islam
لفظی ترجمہ سورۃ البقرہ
سورۃ البقرہ مدنیہ
اعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم
بسمالله لرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
الٓمّٓۚ ۞
ترجمہ:
الم(حروف مقطعات)
ذٰلِكَ ۔۔یہ/وہ
الْكِتٰب۔۔۔کتاب ہے(القرآن)
ُ لَا ۔۔۔۔نہیں
رَيْبَ ۛ ۔۔۔کوئی شک
فِي۔۔۔۔میں
ْهِ ۔۔۔۔اس
ۛ ھُدًى۔۔۔ھدائیت ہے /رہنمائی ہے
ل۔۔۔واسطے/لیے
لْمُتَّقِيْنَ ۔۔۔تقوی والوں کے /پرہیز گاروں کے
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۞
ترجمہ:
یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ
الٰہی ہے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے
آیت نمبر 3
الذِيْنَ ۔۔۔وہ لوگ
یُؤْمِنُوْن۔۔۔ایمان لاتے ہیں
َ ب۔۔۔ساتھ
الْغَيْبِ۔۔۔غیب کے
و۔۔۔اور
یُقِيْمُوْنَ۔۔۔ وہ قائم کرتے ہیں(پورے خشوع و خضوع کیساتھ)
الصَّلٰوة۔۔۔نماز
َ وَ۔۔۔اور
مِمَّا۔۔۔۔اس میں سے جو
رَزَقْ۔۔۔رزق دیا
نٰ۔۔۔ہم نے
ھُم۔۔۔انکو
یُنْفِقُوْن۔۔۔خرچ کرتے ہیں
،الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۞
ترجمہ:
جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
لفظی ترجمہ سورۃ الفاتحہ
Introduction of islam
Hazrat e Umar Farooq
حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ۔۔۔۔۔ سلسلہ نسب: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کع...
-
حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ۔۔۔۔۔ سلسلہ نسب: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کع...

