Monday, 9 August 2021

aik sahabia ki ajeeb khaahish

ایک صحابیہؓ کی عجیب خواہش

 ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ جہاد کی تیاری کریں ، مدینہ کے ہر گھر میں جہاد کی تیاریاں زوروں پر تھیں، ایک گھر میں ایک صحابیہؓ اپنے معصوم بچے کو گود میں لئے زار و قطار رو رہی تھیں، اس کے خاوند پہلے کسی جہاد میں شہید ہو گئے تھے،  اب گھر میں کوئی بھی ایسا مرد نہ تھا کہ جس کو یہ تیار کر کے نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد میں بھیجتیں، جب بہت دیر تک روتی رہیں، اور طبیعت بھر آئی ، تو اپنے معصوم بچے کو سینے سے لگایا اور مسجد نبویﷺ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوئیں، اپنے بیٹے کو نبی علیہ السلام کی گود میں ڈال کر کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بیٹے کوبھی جہاد کے لیے قبول فرمائیں! نبی علیہ السلام نے حیران ہوکر فرمایا : یہ معصوم بچہ جہاد میں کیسے جا سکتا ہے،  اور  رو کر کہنے لگیں: کہ میرے گھر میں کوئی بڑا مرد نہیں کہ جس کو بھیج سکوں، آپ ﷺ اسی کو قبول کر لیں!  آپﷺ نے فرمایا: یہ بچہ کیسے جہاد کرےگا،  وہ صحابیہؓ کہنے لگیں: کہ میرے اس بچے کو کسی ایک مجاہد کے حوالے کر دیں!  جس کے ہاتھ میں ڈھال نہ ہو،  تاکہ جب وہ مجاہد کفار کے سامنے مقابلے کے لیے جائے اور کافر تیروں کی بارش برسائیں، تو وہ مجاہد تیروں سے بچنے کے لئے میرے بیٹے کو آگے کر د ے، میرا بیٹا تیروں کو روکنے کے کام آسکتا ہے

 سبحان اللہ !! تاریخ انسانیت ایسی  مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے کہ عورت اور ماں جیسی شفیق ہستی فرمان نبویﷺ کو سن کر اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے اتنی بےقرار ہوئی ہے کہ معصوم بچے کو شہادت کے لئے پیش کر دیتی ہیں 

No comments:

Post a Comment

Hazrat e Umar Farooq

حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ۔۔۔۔۔ سلسلہ نسب: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کع...