قربانی کے 40 اہم مسائل
مسئلہ نمبر 1 جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہوگی
یعنی قربانی کے تین دن (10, 11 ,12) ذوالحجہ کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیاء جمع ہو جائیں، جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے ( مثال کے طور پر رھائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو چاہے وہ تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو، اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہو، تو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔
مسئلہ نمبر 2 : دو مسافر پر قربانی واجب نہیں
مسئلہ نمبر 3: قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے، بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہو جانے کے بعد قربانی کرنا درست نہیں ہے، قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے، اگرچہ رات کو بھی ذبح کر سکتے ہیں ؛ لیکن بہتر ہے کہ وہ قربانی عید کو کرے اس کے بعد دوسرے دن اور اس کے بعد تیسرے دن۔
مسئلہ نمبر 4 : شہر اور قصبوں میں رہنے والوں کے لیے عید الاضحی کی نماز پڑھ لینے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں ہے، دیہات اور گاؤں والے صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کر سکتے ہیں، اگر شہری اپنا جانور قربانی کے لئے دیہات میں بھیج دے، تو وہاں اس کی قربانی بھی نماز عید سے پہلے درست ہے اور ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت منگوا سکتا ہے ۔
مسئلہ نمبر 5 : اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یعنی وہاں رکنے کی نیت کرے یا بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے یا کسی غریب آدمی کے پاس بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے اتنا مال آ جائے کہ وہ نصاب کو پہنچ جائے یعنی کی اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، ہو تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔
نیز اگر مسافر مالدار ہو، دوران سفر قربانی کے لیے رقم بھی ہو اور وہ پندرہ دن سے کم عرصے کے لیے رہائش پذیر ہونے کے باوجود آسانی کے ساتھ قربانی کر سکتا ہو، تو
قربانی کر لینا بہتر ہے ۔
مسئلہ نمبر 6: قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے اگر خود نہ کرسکتا ہو تو کسی اور سے بھی ذبح کرا سکتا ہے۔
بعض لوگ قصائی سے ذبح کرتے وقت ابتداءً خود بھی چھری پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ قصائی اور قربانی والے دونوں مستقل طور پر تکبیر پڑھیں، اگر دونوں میں سے ایک نے نہ پڑی تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔
مسئلہ نمبر 7 : قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں دل میں بھی نیت کر سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 8 : قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلے کی طرف لٹائیں اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے
"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
اور ذبح کرنے سے پہلے درج ذیل دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لے:
"اللّٰهُم َّمِنْكَ وَ لَكَ" پھر ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر ذبح کرے ، اور ذبح کرنے کے بعد اگر درج ذیل دعا یاد ہو تو پڑھ لے:
"اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّيْ كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيْلِكَ إبْرَاهِيْمَ عليهما السلام".
اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہو تو "مِنِّيْ" کی جگہ " مِنْ " کے بعد اس شخص کا نام لے لے
مسئلہ نمبر 9 : قربانی صرف اپنی طرف سے کرنا واجب ہے، اولاد کی طرف سے نہیں، اولاد چاہئے بالغ ہو یا نابالغ، مالدار ہو یا غیر مالدار، جس پر پر قربانی واجب ہوئی ہے، وہ اپنے مال میں سے خود قربانی کرے گا، کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے قربانی کرے تو یہ درست نہیں ہے ۔
مسئلہ نمبر 10: درج ذیل جانوروں کی قربانی ہو سکتی ہے "اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا"۔
بکرا بکری بھیڑ اور دنبہ کے علاوہ باقی تمام جانوروں میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں؛ لیکن ایک شرط ہے وہ یہ کہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو، اور سب قربانی کی نیت سے شریک ہو یا عقیقہ کی نیت سے صرف گوشت کی نیت سے شریک نہ ہوں۔
گائے، بھینس اور اونٹ وغیرہ میں سات سے کم افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں، اس طور پر کہ کہ چار آدمی ہوں، تو تین آدمی کے دو حصے اور ایک آدمی کا ایک حصہ ہو جائے، نیز اگر پورے جانور کو چار حصوں میں تقسیم کر لیں، یہ بھی درست ہے یا یہ کہ دو آدمی موجود ہوں تو نصف نصف تقسیم کر سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر کئی افراد مل کر ایک حصہ ایصال ثواب کے طور پر کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے، لیکن ضروری ہے کہ سارے شرکاء اپنی اپنی رقم جمع کرکے ایک شریک کو دیں، اور وہ اپنی طرف سے قربانی دے اس طرح قربانی کا حصہ ایک کی طرف سے ہو جائے گا اور ثواب سب کو ملے گا۔
مسئلہ نمبر 11: اگر قربانی کا جانور اس نیت سے سے خریدا کے بعد میں کوئی مل گیا تو شریک کر لوں گا، اور بعد میں کسی اور کو قربانی یا عقیقہ کی نیت سے شریک کیا تو قربانی درست ہے اور اگر خریدتے وقت کسی اور شریک کو شریک کرنے کی نیت نہ تھی بلکہ پورا جانور اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اب اگر شریک کرنے والا غریب ہے ، تو کسی اور کو شریک نہیں کر سکتا اور اگر مالدار ہے تو شرک کر سکتا ہے لیکن بہتر نہیں ہے۔
ایک جانور قربانی کرنے کے لیے خریدا اگر اس کے بدلے دوسرا جانور دینا چاہے تو جائز ہے مگر یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ دوسرا جانور کم از کم اسی کی قیمت کا ہو اگر اس سے کم قیمت کا ہو تو زائد رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ صدقہ کرنا ضروری ہے، ہاں! اگر زبانی طور پر جانور کو متعین نہ کیا ہو؛ بلکہ یہ ارادہ کیا کہ اگر اچھی قیمت میں فروخت ہورہا ہو تو فروخت کردیں گے اس صورت میں اصل قیمت سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے میں کوئی بھی گناہ نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 12: جانور گم ہوا، اس کے بعد دوسرا خریدا اور پہلا جانور واپس مل گیا، اگر قربانی کرنے والا امیر ہے تو ان دونوں جانوروں میں سے جس کو چاہے ذبح کرے جبکہ غریب پر ان دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی۔
وضاحت: اگر کسی آدمی نے قربانی کے لئے جانور خریدا اور خریدنے کے بعد وہ جانور قربانی کرنے سے پہلے گم ہو جائے تو صاحب حیثیت آدمی پر قربانی کے لئے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے، کیونکہ اس پر قربانی شرعاً واجب تھی اور واجب ادا نہیں ہوا، جب کہ فقیر آدمی پر دوسرا جانور خریدنا اور قربانی کرنا لازم نہیں تھا، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور بھی خرید لیا اب اگر مالدار اور غریب کا پہلا گمشدہ جانور مل جائے، امیر پر صرف شرعی واجب قربانی کا ادا کرنا لازم ہے، جس جانور کو ذبح کرے کافی ہے جبکہ غریب پر خود سے واجب کئے جانوروں کی قربانی کرنا بھی لازم ہے
اس کی تفصیل یوں ہے کہ امیر آدمی پر نصاب کی وجہ سے قربانی واجب تھی اس نے وہ ادا کردی، اس کے حق میں جانور متعین نہیں ہوا تھا اسے اختیار ہے کہ جس جانور کو چاہے ذبح کر دے جبکہ غریب آدمی پر قربانی لازم نہیں تھی غریب نے خود سے جانور خرید کر اپنے اوپر قربانی کو لازم کیا اور جو جانور اس نے خریدا وہ بھی متعین ہوگیا کے حق میں قربانی کے نام سے متعین ہوچکا اگر وہ گم ہو جائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی لازم نہ تھی اس کے باوجود تقریب میں دوسرا جانور خرید کر قربانی لازم کر لیں اس پر فقیر آدمی پر دوسری قربانی بھی لازم ہوئی لہذا غریب آدمی دونوں جانوروں مہربانی کرے گا اور مالدار اس پر صرف قربانی لازم ہے جانور متعین نہیں دونوں جانوروں میں سے کسی ایک کے قربانی کردے تو کافی ہوگا
مسئلہ نمبر 13 : قربانی کے جانور میں اگر کئی شرکاء ہیں تو گوشت وزن کرکے تقسیم کریں
مسئلہ نمبر 14: بھیڑ، بکری جب ایک سال کی ہو جائے، گائے بھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا تو اس کی قربانی جائز ہے، اگر اس سے کم ہے تو جائز نہیں، ہاں! دنبہ اور بھیڑ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔
تول کر کر خرید و فروخت کرنا بھی جائز ہے، ایسی قربانی بغیر کسی شک کے صحیح اور درست ہے
مسئلہ نمبر 15 : قربانی کا جانور اگر اندھا ہو یا ایک آنکھ کی ایک تہائی یا اس سے زائد روشنی چلی گئی ہو، یا ایک کان ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گیا ہو، یا دُم ایک تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ، گائے اور بھینس کے دو تھن یا بکری کا ایک تھن خشک ہو گیا ہو یا پیدائشی طور پر نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں۔
مسئلہ نمبر 16 : اسی طرح اگر جانور ایک پاؤں سے لنگڑا ہے یعنی تین پاؤں سے چلتا ہے چوتھے پاؤں کا سہارا نہیں لیتا تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں، ہاں! اگر وہ چوتھے پاؤں سے سہارا لیتا ہے لیکن لنگڑا کے چلتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 17 : قربانی کا جانور خوب موٹا تازہ ہونا چاہیے اگر جانور اس قدر کمزور ہو کہ ہڈیوں میں گودا بالکل نہ رہا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
نوٹ ! بعض لوگ موٹا تازہ جانور صرف دوسروں کو دکھلانے کے لئے یا اپنی عزت بڑھانے کے لیے خریدتے م ہیں، ایسے لوگ قربانی کے ثواب سے محروم ہوتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ موٹا تازہ جانور تلاش کرتے ہوئے صرف ثواب کی نیت کریں۔
مسئلہ نمبر 18: اگر کسی جانور کے تمام دانت گرگئے ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے اور اگر اکثر دانت باقی ہوں کچھ گر گئے ہو تو قربانی جائز ہے۔
اگر کسی جانور کی عمر پوری ہو اور ابھی دانت نہ نکلے ہوں تو بھی قربانی ہو سکتی ہے تاہم اس سلسلے میں صرف جانوروں کے عام سوداگروں کی بات معتبر نہیں بلکہ یقین سے معلوم ہونا ضروری ہے یا یہ کہ خود گھر میں پالا ہوا جانور ہو تو اس کی قربانی کی جا سکتی ہے ۔
مسئلہ نمبر 19: جس جانور کے پیدائشی کان ہی نہ ہو اس کی قربانی بھی جائز نہیں ہے۔
اعلان نمبر 20: اگر کسی جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں اس طور پر کے دماغ بھی متاثر ہوا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، اور اگر معمولی سے ٹوٹے ہوئے ہیں یا سرے سے سینگ ہی نہ ہوں، تو بلا کراہت جائز ہے
اسی طرح گائے، بکری وغیرہ کے اگر پیدائشی سینگ نہ ہوں تو اس کی قربانی بھی جائز ہے
مسئلہ نمبر 21 : خارش زدہ جانور کی قربانی جائز ہے البتہ اگر خارش کی وجہ سے بے حد کمزور ہو گیا ہو تو پھر جائز نہیں ۔
مسئلہ نمبر 22: اگر قربانی کے جانور میں کوئی عیب پیدا ہوا جس کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہ ہو تو مالدار شخص کے لئے یہ ضروری ہے کہ دوسرا جانور اس کے بدلے خرید کر قربانی کرے، اور اگر وہ غریب ہو تو اسی جانور کی قربانی کر سکتا ہے۔
اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لئے گراتے ہوئے کوئی عیب پیدا ہو جائے، مثال کے طور پر ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا سینگ وغیرہ ٹوٹ جائے تو اس سے قربانی پر اثر نہیں پڑے گا البتہ جانور کو گراتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔
مسئلہ نمبر 23 : قربانی کے گوشت میں بہتر یہ ہے کہ تین حصے کرے، ایک حصہ اپنے لیے رکھے، ایک حصہ رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ فقراء و مساکین کو م دے، لیکن اگر سارے کا سارا اپنے لئے رکھے تب بھی جائز ہے، یا سارا کا سارا فقراء و مساکین کو دے تو وہ بھی درست ہے۔
مسئلہ نمبر 24 : قربانی کی کھال کسی کو خیرات کے طور پر دے، یا فروخت کرکے اس کی قیمت فقراء کو دے، البتہ اگر کسی دینی تعلیم کے مدرسے اور جامع کو دے دے تو سب سے بہتر ہے کیونکہ علم دین کا احیاء سب سے بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر 25 : قربانی کی کھال کو اپنے مصرف میں بھی لایا جا سکتا ہے اس طور پر کی اس کا آئین باقی رہے مثال کے طور پر مصلیّٰ بنائے یا رسی یا چھلنی تو درست ہے۔
مسئلہ نمبر 26 : قربانی کی کھال کی قیمت مسجد کی مرمّت یا امام و مؤذن یا مدرّس حدیث یا خادم کی تنخواہ میں نہیں دی جا سکتی ہے، نہ اس سے مدارس کی تعمیر ہوسکتی ہے اور نہ شفاخانوں یا دیگر رفاہی اداروں کی
مسئلہ نمبر 27: قربانی کی کھال قصائی کو اجرت میں دینا جائز نہیں، اگر کسی کی قربانی کی کھال چوری ہوگئی یا چھن گئی، یا تو اسے چاہیے کہ وہ خال کی رقم صدقہ کرے اور اگر رقم نہ ہو تو کوئی حرج نہیں قربانی پر فرق نہیں پڑے گا۔
مسئلہ نمبر 28 : اگر قربانی کے تین دن گزر گئے اور قربانی نہیں کی، تو اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دے اور اگر جانور خریدا تھا، مگر قربانی نہیں کی، تو اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دیں اور اگر جانور خریدا تھا مگر قربانی نہیں کی تو بعینہٖ وہی جانور خیرات کر دے۔
مسئلہ نمبر 29 : ایصال ثواب کے لئے قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 30 : اگر کسی شخص کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی ، اسی طرح اگر کسی شخص کو اس کے حکم و اجازت کے بغیر قربانی میں شریک کیا، تو بھی قربانی صحیح نہیں ہوگی، اسی طرح اگر حصہ داروں میں سے کوئی ایک صرف گوشت کی نیت سے شریک ہے تو کسی کی بھی قربانی صحیح نہ ہوگی۔
مسئلہ نمبر 31 : قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دے سکتا ہے؛ لیکن کسی کو اجرت میں نہیں دے سکتا
مسئلہ نمبر 32:گھابن جانوروں کی قربانی صحیح ہے اگر بچہ زندہ نکلے اس کو بھی ذبح کر دے اور گوشت آپس میں تقسیم کرنے کے بجائے صدقہ کر دیا جائے
قربانی کے جانور کے بال کاٹنا یا دودھ نکالنا درست نہیں ہے اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے صدقہ کریں اگر بیچ دیا تو اس کو صدقہ کرنا واجب ہے۔
مسئلہ نمبر 33 : جو شخص قربانی کرنا چاہے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ یکم ذوالحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ناخن
ہاں اگر زیر ناف اور بغل کے بالوں پر چالیس روز کا عرصہ گزر چکا ہو تو ان بالوں کی صفائی کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر 34: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک بھی رکھ سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 35 : جانور ذبح کرنے کے لیے چھری خوب تیز ہونی چاہیے تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 36 : اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت سارا کا سارا کسی اور کو کھلا دے، خود کچھ بھی نہ کھائے تو ایسا کر سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 37 : خصی جانوروں کی قربانی جائز بلکہ بہتر ہے کیونکہ اس میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ گوشت ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 38 : ذبح کرتے وقت تکبیر کے علاوہ کچھ اور
نہیں کہنا چاہیے مثال کے طور پر (بسم اللہ تقبل من فلاں)۔
مسئلہ نمبر 39 : اگر کسی نے قربانی کی نذر مانی اور وہ کام ہو جائے تو قربانی واجب ہے اس کے گوشت سے خود نہیں کھا سکتا سارا فقراء اور مساکین کو کھلا دے۔
مسئلہ نمبر 40 : اگر کسی شخص کی ساری یا اکثر آمدنی حرام کی ہو، تو اس کو اپنے ساتھ قربانی میں شریک نہیں کرنا چاہیے، اگر شریک کیا تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی، ایسا شخص جس کی ساری کمائی حرام کی ہو اس پر قربانی لازم نہیں؛ کیونکہ اس کا سارا مال واجب التصدق ہے یعنی بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دینا ہے ثواب کی کوئی نیت نہیں رکھنی ہے، دوسرے یہ کہ اللہ تعالی حرام مال سے کسی کا صدقہ قبول نہیں فرماتے بلکہ وہاں صرف پاکیزہ مال سے کیا ہوا صدقہ و خیرات قبول ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 41 : کسی نے مرتے وقت وصیت کی کہ میرے مال سے قربانی کی جائے، تو اس قربانی کا سارا گوشت خیرات کرنا ضروری ہے، اس میں سے خود کچھ بھی نہ کھائیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو قربانی کی روح اور حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری ظاہری قربانی حقیقی قربانی کے لئے پیش خیمہ ہو اور ہم اس ظاہری و مادی قربانی کی طرح اللہ کے حکم پر اپنی جان کی قربانی کے لئے بھی ہمیشہ تیار رہیں
آمین
No comments:
Post a Comment