Saturday, 10 July 2021

Golden words

*هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (القرآن)*
*ترجمہ: (یہ کتاب،یعنی قرآن کریم) ہدایت ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے..*

تقویٰ" کا لفظی مطلب "بچنا" ہے۔ قرآن کا مقصد چوں کہ جہنم کے نقصان اور جنت کی محرومی سے بچانا ہے اس لیے اس کی یہ دعوت صرف ان لوگوں کی سمجھ میں آسکتی ہے جو "تقوی"  یعنی نقصان اور محرومی سے بچنے کی نفسیات میں جی رہے ہوں۔ ایک عام انسان اپنی زندگی اسی تقوی کے اصول پر گزارتا ہے۔ یعنی وہ ہر نقصان اور تکلیف سے بچنا چاہتا ہے۔ اس کی ساری تگ ودو بھوک، پیاس، بے گھری، بے روزگاری وغیرہ سے بچنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس طرح ہر انسان اصل میں متقی ہوتا ہے۔ قرآن بس اتنا کہتا ہے کہ اپنے تقوٰی کا رخ دنیا کے ساتھ آخرت کی طرف بھی کر لو۔ یعنی آخرت کے نقصان سے بچنے کی بھی فکر کرلو۔یہی لوگ قرآن کی اصطلاح میں "متقی" ہیں۔ جو لوگ ان معنوں میں متقی نہیں قرآن کا کوئی مطالبہ ان پر مؤثر نہیں ہوتا۔🪴*

جس معاشرے میں عفت و عصمت بے وقعت ہو جائے اور عہد اور امانت کے بارے میں لوگ بے پروا ہو جائیں وہاں آخر کار تمام خاندانی اور سماجی اقدار ختم ہو جاتی ہیں*۔

*انسان اور جانوروں میں اصل فرق اقدار کا ہے۔ جانور صرف مفاد اور خواہش کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ جانوروں میں رشتے نہیں ہوتے۔ وہاں نر کے لیے مادہ صرف ایک مادہ ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔ وہ احساسِ امانت اور عہد کی پاسداری کے تصور سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ صرف جبلت کو جانتے ہیں۔ اگر انسان بھی حیا، عہد، امانت، اقدار کو بھول کر جبلت، خواہش اور مفاد کو زندگی بنالیں، عہد کو توڑیں، امانت میں خیانت کریں اور زنا و بدکاری میں عام ہوجائیں تو ان میں اور جانوروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ سوائے اس کے کہ جانوروں کا جنگل اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے، مگر انسانی مُعاشرے اس کے بعد تباہ ہو جاتے ہیں۔🪴*


*وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً (القرآن)*
*ترجمہ: اور لوگوں سے بھلی بات کہو!!!*

انسان اکثر اپنی زبان سے لوگوں کو دکھی کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک بندہ مومن سے خدا کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے کسی کو دکھ نہ پہنچے۔ غیبت، بہتان تراشی، تضحیک و تذلیل، طعنہ زنی، چغلخوری، سخت کلامی جیسے رذائل تو دور کی بات ہے، خدا کے بندوں کے منہ سے ہمیشہ لوگوں کے لیے اچھی باتیں نکلتی ہیں۔ یہ بات جس میں نہیں وہ بندہ مومن نہیں۔

اسی طرح یہ بات بھی اس حکم سے نکلتی ہے کہ بندہ مومن نیکی اور خیر کی باتیں ہی دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اس کا کلام اچھائی ہی کی تلقین کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ برائی کی دعوت دینے والا۔

اچھائی پھیلانی پڑتی ہے، برائی تو خود ہی پھیل جاتی ہے


اولاد کو با ادب بنانے کا بہترین طریقہ، اُن کے ساتھ عزت سے پیش آنا ہے


مزاج کے خلاف بات کہنا، رشتوں کی استواری کو کھو دیتا ہے

وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةً أَوْ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمْ ذَكَرُواْ ٱللَّهَ فَٱسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ۔ (القرآن)*
*ترجمہ: (جنت تیار کی گئی ہے ان متقین کے لیے) جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام اُن سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللّٰہ انھیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔*

انسان کو امتحان کے لیے اس دنیا میں پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں قدم قدم پر اس کے سامنے وہ گندگیاں آتی ہیں جو اس کے حیوانی اور نفسانی جذبات کے لیے تو بڑی پرکشش ہوتی ہیں، مگر اس کے اخلاقی وجود کو ناپاک کر دیتی ہیں۔ ایک مومن اس کیچڑ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، مگر کبھی کبھار اس کا پاؤں اس میں پڑ سکتا ہے۔ ایک بندہ مومن اس حادثے کے بعد غافل نہیں رہتا؛ بلکہ اس کیچڑ کو گندگی سمجھ کر فوراً توبہ کے آنسوؤں سے دھونے کی کوشش کرتا ہے۔ جو شخص فواحش اور گناہوں کی گندگیوں کو گندگی نہ سمجھے وہ کبھی مومن نہیں ہوسکتا

*وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَىٰ مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (القرآن)*
*ترجمہ: اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے

جنت کے حصول کے لیے گناہ پر توبہ ہی کافی نہیں؛ بلکہ اس راستے کو بھی بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گناہ کی سمت لے جاتا ہے۔ جو یہ نہ کرے وہ بار بار گناہ کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی توبہ کی توفیق اگر نصیب ہو گئی تھی تو وہ بھی چھن جاتی ہے اور پھر انسان گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

کائنات میں موجود نعمتیں انسان کو ہر لمحہ رب کی یاد دلاتی ہیں۔ دل کی دھڑکن، خون کی گردش، سانس کی ڈوری لمحہ لمحہ اسے یاد دلاتے ہیں کہ وہ پل رہا ہے اور کوئی اسے پال رہا ہے۔ اس کی غذا، پانی، ہوا، اہل و عیال کی نعمتیں، انفس و آفاق کی ہر ہر نشانی میں موجود ربوبیت کے آثار کبھی اسے خدا سے بے تعلق نہیں رہنے دیتے۔ ایسا بندہ ہمیشہ رب کی یاد میں جیتا ہے۔ اس کا سب سے اعلیٰ نمونہ تو خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ آپ کی دعائیں اس کیفیت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں۔ یہی ہر مسلمان کے لیے بہترین ماڈل بھی ہے۔

غزل کے وہ سارے الفاظ جو عورت کی تعریف میں کہے جاتے ہیں خواہ وہ دنیا کی تمام زبانوں میں ہی کیوں نہ ہوں، اس ایک وصف کے برابر بھی نہیں ہو سکتے جس کو قرآن نے عورت کی شان میں کہا ہے:*
*تَمشِي عَلـَی استِحیَاء*
*سورة القصص (٢٥)*
 *وہ بڑی حیا کے ساتھ آئی

زندگی اِس طرح بسر کرو کہ دیکھنے والے تمھارے درد پر افسوس کرنے کی بجائے، تمھارے صبر پر رشک کریں۔

No comments:

Post a Comment

Hazrat e Umar Farooq

حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ۔۔۔۔۔ سلسلہ نسب: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کع...