اللہ تعالی نے انسان کو مخدوم اور دیگر تمام مخلوقات کو انسان کا خادم بنایا ہے ان خادموں میں جاندار بھی ہیں اور بے جان بھی ہیں بے جان چیزوں سے تو آدمی نفع اٹھاتا ہے اور جانداروں سے بھی فائدہ اس کے لیے جائز کیا گیا ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے کی شکلیں مختلف ہے کسی کو سواری کے کام میں لیا جاتا ہے جاتا ہے بعض جانوروں کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے انہیں فوائد میں سے ایک اہم فائدہ گوشت کھانے کا بھی ہے
کیوں کہ طبعی طور پر پر انسان گوشت خور واقع ہے تاہم شریعت میں ایسے جانوروں کے گوشت کو حرام کر دیا جن میں ظاہری یا باطنی گندگی پائی جاتی ہوں اور درندے وغیرہ ظاہری طور پر گندے ہونے کی وجہ سے ان کو حرام قرار دیا گیا جبکہ غیر اللہ پر بھینٹ چڑھائے جانے والے جانوروں کو باطنی طور پر گندہ ہونے کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا
اب دنیا میں پرانی قوموں سے یہ دستور رہا ہے کہ جانوروں کے خون بہانے کو تقرب کا ذریعہ سمجھا گیا اور حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے واقعے میں اللہ کی رضا جوئی کی خاطر جنتی مینڈھے کی قربانی کرا کر عملاً اس تصور کو صحیح رخ دے دیا گیا اور اسلام میں بھی یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ مشروع بلکہ مطلوب و محمود قرار پایا اور وسعت والوں پر خاص دنوں میں متعینہ جانوروں میں سے قربانی پیش کر کے تقرب خداوندی کے حصول کو واجب قرار دیا گیا اور اس پر اتنی تاکید کی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
من وجد سعۃ لأن یضحی فلم یضح فلا یحضر مصلانا
ترجمہ : جو آدمی قربانی کی گنجائش رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے
پیغمبر علیہ السلام کے درج بالا ارشاد سے اسلام میں قربانی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے قربانی کے ایام دیگر عبادات کے مقابلے میں قربانی کا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے چنانچہ ام المؤمنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم إنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض فطيبوا بها نفسا
ترجمہ قربانی کے دن میں کوئی عمل اللہ تعالی کو خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے اور یہ قربانی کا جانور قیامت کے میدان میں اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی میں بہایا جانے والا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے دربار میں قبولیت کا مقام حاصل کر لیتا ہے لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو
ما عمل آدمی
واضح ہو کے ایام قربانی میں جانور کا ذبح کرنا ہی لازم ہے جانور کی قیمت کے صدقے سے کام نہیں چل سکتا ہے اور جو شخص اس کے باوجود قربانی نہیں کرے گا وہ سخت گنہگار ہوگا کیونکہ وہ واجب کا چھوڑ نے والا ہے آج کل بعض ماڈرن ذہن والے لوگ قربانی کے بجائے صدقہ کرنے پر زور دیتے ہیں تو ان کی یہ بات شریعت کے خلاف ہے اور لائق توجہ ہرگز نہیں ہے

Boht khoob
ReplyDeleteAllah sab ko tofeeq ata frmaye
Jazakallah
ReplyDelete